Nhạc sĩ: Raju Yadav | Lời: Pyare Lal Yadav
Lời đăng bởi: 86_15635588878_1671185229650
لوٹ لو لوٹ لو
ہای
کیا کہنا ہے
جیہو
ہاں ساتھیوں
ایک بار پھر سے آپ سب کے بیچ میں
ماہ بیندیباسنی فلم سورٹ کمپنی کی اور سے
ایک دھمکے دار پرستیتی با
اجب
یہ چینل کا نام ماہ بیندیباسنی کے نام سے با
تیگو ماری عادشکتی کا گاثہ
ایسا کہانی پرستیت با اج کے شمعے میں نا لکھات با انا گوات با
ہم کے پورا بیشتوس بھر ہویا سپسند کرب
بھومکا میں کتنا بڑھیا بھاو کبھی جی رکھے لے بڑھن
چاندنی
چاندنی چاند روشن کرے رات کو ناری کا مرد کہلا تا سرنگار ہے
پرن پانی سے
جگم بھی رب بہتی ندی
کود کی روشنی پوتر امتار ہے
باریمرای سے
بکش لگ جاتے ہیں
بڑھتی مانوتا ہے
گیان اعصار میں
نام سرنام کا تتھے ہے جندگی
جن کی چرچا نہ جاتی ہے سنسار سے
بڑی بڑی ترج رکھل گئی ہمارے سورج گروہ جی کے ایسپیشل ترج ہاں
کیسے کہا ترہ لے ماسٹر
کیسے
کیسے
مدیرہ کا مطلب سباب ہو جاتا ہے
کتنا بڑی بھاو ہو
جاتا ہے تک کٹوہ سے علگا گولاب ہو جاتا ہے
بیراہاں میں کتنا بڑی بھاو کبھی جی لکھتا ہوں
سچائی ہے ست تنہیں کڑوا ہو لا لیکن ست تنہیں ستیا ہے
کیا گا ساتھ
کویلیاں کا گیت نہیں ملی ہے
جلے بجریہ میں پریت نہیں ملی ہے
پیسے سے منوکا میت نہیں ملی ہے
جلے بجریہ میں پریت نہیں ملی ہے
آم کی تنہیں ملے ہیں
آم
کی تنہیں ملے ہیں
کہانی کا شروعات تلی آنند لے ہیں
آج کل بیراہاں بہت لکھاتے ہیں بہت گوات پھل
لیکن رشنا دیکھیں
سورج شندرکہ کبھی جی کا رشنا باہر
کیا وہاں پھولا قیمتی ہوتا
کون پھول ایک پھول ہمنی کے سر پر چڑھتا ایک
پھول بیبی مائی کے چرن میں چڑھت باہر ایک پھول سہیدن کے چرن میں چڑھت
باہر کیمت الگ الگ بھاگے الگ رک
باہر یہی لیے وہاں پھولا قیمتی
ہوتا
جو مندر میں چڑھ جاتا وہاں پھولا قیمتی ہوتا جو مندر میں چڑھ جاتا
ہے جیون سفل اسی کا جو گائر کام میں آتا لائن کتنا پڑھی آتا کہ وہاں
پھولا قیمتی ہوتا جو مندر میں چڑھ جاتا
ہے جیون سفل اسی کا جو گائر کام میں آتا
کہانی چلل گوجرات پرانت کے اندر
گوجرات پرانت کے اندر ایک دام بیر تھا نامی کوئی
ضروری نہیں
کہ آپ کے پاس بہت دھن ہے تو دیا دان اور دھرم کریں گے یہی تو کہنا
ہے کہ من با تدھان نکھے یا دھان با تمن نکھے گوجرات پرانت پر رہنے والا
شادارن پلیوار میں جندگی بیٹھانے والا ایک
سکس نہیں کہوں گا اسے سکسیت کہوں
تو کم ہوگا ایک نیم کا پالن کرتا تھا گوجرات پرانت کے اندر ایک دان
بیر تھا نامی گوجرات پرانت کے اندر
ایک دان بیر تھا نامی جگہ دیو نام تھا
اس کا سچا اداری ہوتا نہیں
لیکن
اس کی ناری پتی برتا
جوڑا تب بڑا بھاگے سے
نہیں ملے لیا میہرارو اگر بہت سندر سوسیل بھی آپ
تاں مرد تنہی خرکتہ ہی
ملی
اور مرد بہت سوسیل با سندر با
مرد بھاسی با تاں میہرارو تنہی خرکتہ
ہی ملی جوڑا نام لگے یہی سے کہہ کے پڑھ لکا جگدیہ دیادان دھرم تو
کری رہا ہے
لیکن اس کی دھرم پتنی پر کبھی نے تھوڑا فوکس ڈالا ہے کیا
اس کی ناری پتی برتا پتی ساتھے دھرم نبھاتی اس کی ناری پتی برتا پتی
ساتھے دھرم نبھاتی کردن دکھیوں کی سیوہ اپنا سبحاگ مناتی
ہاں ہاں
تو سچی نہ
ارے سچی نہ بینا سچی ارے نیت نہیں ملی ہے
تو خوجل بجریان میں نیت نہیں ملی ہے
خوجل بجریان میں نیت نہیں ملی ہے
تو خوجل بجریان میں نیت نہیں
ملی ہے
ان
دنوں کی بات ہے
جب ہندوستان کے دھرم پر راج ساہی حکومت چل رہی تھی
گجرات پرانٹ میں وہاں کا راجہ سومدیو
سومدیو کے راج میں تمام لوگ تھے
لیکن ایک گریب آدمی تھا
کسی بدوان نے کہا ہے
کہ گریب آدمی ہوتا ہے دل گریب نہیں
گریبی ضرور تھی کسی طرح سے دو وقت کی روٹی کا انتظام کر پاتا تھا
دھرم پتنی کے ساتھ خوش تھا
دروازے پر آئے ہوئے کسی بھی
مہمان کو اپنے کھانے سے پہلے بیٹھا کر کے
گریبوں کو بھوجن کرانا کنیاوں کا پیر دھونا
یہ نشد دن کا کام تھا وہی نگر میں وہ مندر
بڑا پالی شان مندر رہے وہ مندر کے کر رہے مائی کالی کا مندر رہے
بڑا جاگتا
پرشد پیٹ کالی اور وہ مندر کے پجاری کے
رہے پجاری نہ پوجا کرے والی وہ پجاری رہے
بچپن سے ہی پوجا کرتھ رہے
پچاس پچپن کا عمر ہو گئی البام
تب کبی جی کہانی کے طرف چلنا ہوں
کی راہل وہی نگری
کی راہل وہی نگری
کی راہل وہی نگری
سجنیرے کن کالی کالی کہے بھگتی میاں سجنیرے
کن کالی کالی کہے بھگتی میاں سجنیرے
راجہ کے سامنے آگئی
جے کالی جے کالی جے کالی بھیج مندر کا جاب
اوہ میں ہر انکلنگ چامنڈای بیچے کیا ماہن
کرتی ہوئی راجہ کے سامنے ہوئی بھاٹن کھڑی ہوئی
راجہ بڑا
عادر کیے ستکار کیے سیوہ کرتے ہیں
کہ کیسے آگمن ہوا کیا سیوہ کروں
بھاٹن کا حل کہے کوئی سیوہ مت کریے آپ
کی پرجاہ بھی خوش ہے آپ بھی خوش نہیں ہے
یہ راج میں
چاروں طرف خوشیاں ہی خوشیاں دوڑ رہی ہیں
کس کا پن پرتاب ہے آپ کو پتا ہے راجن
راجہ بڑا گروہ ستھا کر کے بھاٹن کے طرف ہنسا
کہ میرے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے
تو آپ تو جانتے ہیں کہ گھمنڈے اہنکار تو بھگوان کا یہاں ہے
اہنکاری راجہ کہا کہ رے بھاٹن
تو جو کہنا چاہتی ہے کھول کے بول میں
یہاں کا راجہ ہوں میرے راج میں یہ جو
چاروں طرف خوشیاں کی لحر دوڑ رہی ہے یہ سرہ سرہ ہونے جاتا ہے کہنا راجہ
نا
اصلی سچائی ہم آپ کو بتاتی ہوں کیا بتاتی ہے
ہے
یہ سچائی راجہ تو کہ پتا نہیں کہا ہم جانتے ہیں
کی چمکا دانی
کی چمکا دانی
ستارہ ستاری نگر میں
چمکا دانی
ستارہ ستاری نگر میں
ستاری نگر میں
کی دھانی جگہ دیوہ پیارہ ستاری نگر میں
ہر میں جگہ دیوہ پیارہ ستاری نگر میں
یہ سارا پن پرداب اسی کا ہے کہ کر
کر یہ بھٹ کہ جادنی سپھیلی جگہ دیوہ کیا کیا
جادنی سپھیلی جگہ دیوہ کیا کیا جادنی سپھیلی جگہ دیوہ کیا
کیا بھاٹی نکا پتیہ
جنہاں سنس راجہ چھڑا ہوا کہتا رے پاگل کہ
جان بھولا پھو بھارا ستاری نگر ستاری نگر میں
کی دھانی جگہ دیوہ پیارہ
ستاری نگر میں
جادنی سپھیلی جگہ دیوہ کی کیتیا
مہہ
آپ کے راج میں ایک آدمی ایسا ہے راجہ
مہہ
جس کے پنے اور پتاب سے آپ کے راج میں چاروں طرف خوشی ہے
مہہ
اس کا نام جگہ دیوہ ہے
مہہ
راجہ اٹھ کر کے کھڑا ہوا
مہہ
اور اس پجارین کا اپمان کرنے لگا کہا کہ تیرا دماغ خراب ہے
مہہ
کیا بکواث کر رہی ہے
مہہ
کیسے کہا راجہ ماشلہ
مہہ
تاہی فلم کا ترجیہ بہا راجہ بھائی لیکن ہمارا
گروہ جیت ترجیہ گاوت رہو بہت ہی لگے کسے بھائی
جی آگی لگا
آگی لگا
آگی لگا
رائی
مطلب سرسو راجہ کہتے ہیں
کہ رائی نہ ہی پائی پروت کے ستارے
اگر ہی نہ ہوئی کبوس تاریتہ زگروا
کہ بھوتا وہ اتار جائے اتار کپارکے سیرہ آگے گنگاوے بگل دیور گل
کپار پجن بھوت چڑھل باپ
ایک منٹ میں اتری سام کو صبح ہونے کے بعد
کھانے اور دانے کی انتجام کرنے والا
وہ گریت کی کہانی میرے سامنے تو سناتی ہے
کہ وہ ایسا کوئی دھرماتمہ نہیں کیا دان کرتا ہے وہ
جرہ بتا نہ مجھے
راجہ مزاک اڑاتا ہے اور اس پجارین بھاٹن کو کہتا ہے ارے پاگل
کیا کہلا
کہا کہ ارے کا گانا ہوئی ہم سارا سیا راجہ
کہتے ہیں کہ کا گانا ہوئی ہم سارا سیا
راستے کا
پتھر نہ ہیرا کہتا کوئی
راستے کا پتھر نہ ہیرا کہتا کوئی
کا گانا ہوئی ہم سارا سیا
تم جہاں جس کو کہہ رہی ہے
وہ راستے کا پتھر ہے تو وہ ہیرا بنانے کی کوشش کر رہی ہے
کیا دان دے دے گا
کیا دان دے دے گا جگہ دے جو میں نہیں دے پاؤں گا بھاٹن وہ کالی مائی
کو پجارین ہسے لگل کل کہے راجہ جی کو بات کہیں ترج بڑی پہ جوڑ لگل باہر
ایک دولہین کا دولہہ دن بھر گھونکے انہیں انہیں انہیں انہیں
بیٹھے کھالی تاس کھل ایک مٹھا بھیڑی لے لے وہاں دھرا دھرا کے
پی آوے اپی دولہین آئیل بلاک ایک دن سمجھاواتی کی ہے راجہ جی
اکیل رہ لاکھے
کے بعد بکھیل بھیلا
کچھ دن میں تین جانا ہو کھل جائی
میں نے سوچ لاکہ جب لڑک من با لڑک من کے
بعد جوانی با جوانی کے بعد بڑھائی تھا
با او خوش نصیب با کہ جو تینوں دیکھ لے لاہو نصیب تو وہ نہا
کہ جو بچپن کے بچپن نہ
دیکھ پولس اب دیکھو پولس بچپن کے تو جوانی کا حال
نہ جن لے لے لے اگر تینوں دیکھ لے لے لے لے لے
لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے
لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے
لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے
لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے لے
لے ل
اچھا کھونو کری بھا
تو
اڑھا دھون بھا
بھلائیل بھلائیل تو پریشان ہو جاؤ کہاں?
کانتب ہو جاؤ?
کہا کہ چلا راجا چلی کے
ارے چلا راجا چلی کے ارے سگا روات
تھا ہائے دی چلا راجا چلی کے سگا روات تھا ہائے دی
چلا راجا چلی کے سگا روات تھا ہائے دی چلا راجا چلیے
جاتی ہوں جگہ دے
جاتی ہوں جگہ دے
سیمان تنوا
جگہ دے سب دار لے رہ جا رہی ہوں
جاتی ہوں جگہ دے
سیمان تنوا
ارے دنہ دیا بسید کل بپائی دی
جگہ دے جاتی ہوں جگہ دے چلا راجا چلی کے سگا روات تھا ہائے
دی چلا راجا چلیے جگہ دے جاتی ہوں جگہ دے چلا راجا چلیے
جگہ دے سے جاتی ہوں
پریشان ہو جاؤ؟
راجا کہتے ہیں اگدم جو من کرے جیسے من کرے ویسے پریشان لے لے
کہ جگہ دے کے پاس جا رہی ہوں دان لینے
یاد رہے
دونہ چاہیے چتنا جگہ دے گا آپ؟
اس کا دونہ چاہیے
راجا ہنسنے لگے کہتے ہیں بھائی بھاگل
جی کہاں گھر میں اے بینا سیو بینا کے گھرچی نہیں کھے
تو اکراں سے ہمارا کمپٹیشن کرتڑے
جو جو جو جو جو
دونہ کی بات چھوڑ دے
سو گونہ دوں گا
کیا ہے اس قریب کے پاس پہنچ گئی
جگہ دے کے دروازے پر آ کر کے کھڑی ہو گئی
صوبہ کا ٹائم دولہین گھر میں روٹی کھانا بناو تھاڑی
اے اپنے بہرہ نکل کے جون بھا جگہ دے جو ہی گھر سے باہر نکل رہا ہوں تو
ہکالی ماں کے پجارن سامنے کھڑی ہے
کلس کے دانی ایک چیز دان مانگے کھاتی رہی
نہیں ہدی دے باہر ہسنے لگے جگہ دے کھانا
کی ماں میرے پاس جو ہے سب تیرا ہی ہے
ماں کا ہے مانگ لینا ہے
کیا مانگنا چاہتی ہے
نہیں وہی چیز مانگو دی
دانی جو تمہارے پاس ہے کہتا ہوں سوچہ سے مانگ لے کیا مانگتی ہے جلد
گوھر کریے گا بیرہا سننے والے ساتھ
دی دا دانی آپن تو
گردن وادن وادن مانگے لے
دی دا دانی آپن تو گردن وادن وادن مانگے لے
ماں
عواق رہ گئے جگہ دیو آئیں
آئیں کا
گردن اپنا کٹ کے مجھے دے دو نان چاہیے
ماں
جگہ دیو کہتے ہیں کہ ماں
میرا بس چلے تو ابھی کٹ کے دے دوں
ماں
لیکن دامپت ستر بندن کی دور
جوڑ بھی گئی
تو اردھ مار اشور کا روک دکھا کر کے بھنگوان شیو نے بھی
اسپسٹ کیا ہے
ہمارے آدھائے انگ کا مالک تاہاں ہمارا دولہن
بڑی ایک بار ان کا سی پوچھے کے پڑے ہاں ہاں
پوچھے لاؤ تاہا پر روٹھی پلٹ رہی تھی دولہن کے پاس آتے ہیں جگہ دیو
اور کہتے ہیں
کہ سنے لو ہاں کہا ہاتھ میں دھولیں آئیں
کھانا کھائیں کھانا کھانا کھائیں ایک
بات سامنے آگئی ہے باہ رو پوجارین جو ان بڑی
آئیل بڑی تا بیٹھائیں سیوا کریں کھانا کھیاں
بھوک لگوائیں کھانا
دان مانگتا رہی ہمارا سے کہاں تا دان مانگتی تیتے
دے دیں.
واہ.
کہو رہے بھائی تو اسے بھی نہ پوچھلے کیسے دے دیں?
گردانا ہوا ہمارا مانگتا رہی کٹ گئی ہے.
مانگے دان میں دے دو.
واہ.
تو بھی نہ پوچھلے کیسے کہ نشت کہ دیں?
دولہن کیا کہتی ہے?
کہ بولی داری ساجن میرے آرے بولی داری ساجن میرے یا بکیوں
دیری میں سنے ہمارا سے کہا ہے کہتے رہی نہیں ہے.
اگر اتنا دیری میں آپ
مر جاتے تو کیا ہوتا پتا ہے?
کہ ارے کرج دار ارے کرج دار ہوئی جاتے
اتنا دیری میں ہمارا سے پوچھے کھاتی رہی لہا اتنا دیری
میں اگر پہاڑ پران آنتھ ہو جاتے پران انتھ ہو جاتے مر جاتا
تک کرج دار ہوئی جاتے تو ارے تنوا تنوا مانگے لے.
جلدی سیروا دیگ دام اور ساجنوا تنوا مانگے لے.
چمچماتی کٹار لے کر کے وہاں گریب آدمی جگدیو باہر نکلا اور کیا کرتا ہے?
بھاٹن لگ جگدیو گئے
تے گا سے سیسا اتارے.
ارے خوشنے خوشنے دیندی آئیں گلا.
ہم سارا سیاں ہوئی لیکن پتی پیتا وہاں دار تنک ناروئی.
بھاٹن لگ جگدیو گئے تے گا سے سیسا اتارے.
خوشی خوشی دیندی آئیں گلا وہاں تنک نہیں ہمت آرے.
گردن پر رکھ کر کے چمچماتی تلوار پھٹ سے کھیچ دیاں.
فوٹبال مطن موری نیچے چل گئیل پٹ سے بھٹی نیاں روک لیا لسٹ.
دھڑاں سے دھڑوا ہیں گی رام.
چادر سے ڈھکواتی ہے اور لے کر کے راجہ
کے دروار میں چلنے کی تیاری کرتی ہے.
تو کہنا ہے
راجہ ہری چند راجہ پات
دیتے ہیں
راجہ ہری چند راجہ پات دیتے ہیں
راجہ ہری چند راجہ پات دیتے ہیں
راجہ تیوڑے ایک ہلیا پن گردن واں
جگہ تیوڑے ایک ہلیا پن گردن واں جگہ تیوڑے ایک ہلیا پن گردن واں
ارے تھالی میں سجاوے لے بھٹی نیاں گردن واں
کھڑی آوڑھاوے اوپراں سے
ارے تھالی میں سجاوے لے بھٹی نیاں گردن واں
کھڑی آوڈھاوے اوپراں سے
جس کے گھر میں دو وقت کی روٹی نہیں نشیب ہے
ہمارے سامنے کہہ رہی ہے کہ
میں ان سے لے کے دان آ رہی ہوں
اور آپ مجھے بط دو گناہ دے دینا
سو گناہ حاضر ہے
بھٹی نیاں پوجارین کہتی ہے
کہ نہیں راجہ
بس جتنا لائے ہوں
اس کا دو گناہ چاہیے
دکھاؤ
ریشمی چادر تھالی پر سے ہٹاتی ہے
راجہ کے سامنے کٹا ہوا
سیس جگہ دیو کا جب سامنے آیا راجہ سنگھاسن سے گر پڑا سوندیو اور جیسے
بھی شفت ہو گیا
رونے لگا کہا یہ کیا ہوا کہا میں نے کہہ دیا کہ مجھے دان
چاہیے اس پارتھ کی دھرتی کو رتن گربہ
کہا جاتا ہے تو اس کے گربے میں ماتر
رتن نہیں ہے ایک ایک شکتیاں ایک ایک
رتن اس دھرتی پر ہیں اور تھے اور جنگ
ازادی کی بات کر لیا جائیں تو جماعہوں نے دو سو سال کی گنامی کو اپنی
حمت اور باجو کے دم سے روک دیا تھا وہ رتن تھے رتن نہیں تو اور کیا تھے
ماں خود دی رامبوش چھوٹی سے عمر میں جب پھانسی پر چڑھنے لگا
تو رونے لگا
تھا انگریزوں نے پوچھا کہ ڈر گیا رو رہا ہے بچہ ہے کہاں ڈرہا نہیں ہوں
رو اس لیے رہا ہوں اے بھارت ماں تیرا کرج نہیں چکا سکا اس لیے رو رہا
ہوں اور دوبارہ دوبارہ پھر جنم لے کے آؤں گا سالوں اور تمہارے چھٹی میں
کیل گھنساوں گا اور دیش کو عزاد کروا دوں گا یہ رتن نہیں تو اور کیا تھے
یہ رتن ہی تو تھے
اور جگہ دیو نے اپنا گردن کاٹ کر کے ایک بھاٹن
کے کہنے پر دے دیا وہ رتن نہیں تو کیا ہے
بھارت کی دھرتی سونے کی چڑیا کہ لی جئے رتن کہ لی جئے
شادو سنسنیاسی کی دھرتی کہ لی جئے اور دانیوں کی دھرتی کہ لی جئے
سور بیروں کی دھرتی کہ لی جئے
اور کلاکاروں کی دھرتی فنکاروں کی دھرتی کہ لی جئے
جہاں ایک ایک اونڈہ کلاکار پیدا ہوتے ہیں
وہیں ہماری بھوشپوریا ماتی میں بھی
ایسے ایسے اونڈہ اونڈہ کلاکار پیدا ہوئے
جنہوں نے بھوشپوری باسا کو بیدیش میں
بھی اپنا پرچم لہرانے پر مجبور کر دیا
جیسے ہمارے بیچ میں ہم یہ سنام کو نظر انداز نہیں کر سکتے
سمراٹ بنے
خاطے دنیا سمراٹ بنو بھوشپوری سمراٹ بھرش شرما بیاس تھی میرا بچپنا تھا
کون ایسا گھر باقی تھا کون ایسا دوار
باقی تھا کون ایسا ٹیپ باقی تھا کون ایسا
ٹیکٹر باقی تھا کون ایسا آدمی باقی تھا کون ایسا مرد اور عورت باقی
جو بھرش شرما بیاس کی گیت کو نہیں سنا آج افسوس ہے پھوڑکم چرمت سیما پر
ہے
ہم لوگوں نے تو گاہ بجا کر کے جتنا ہم نے اُن سے سملا ہم اُن سمالے
اور سمال رہے ہیں آنے والی پیڑھی کو عادیس تو نہیں دے سکتا لیکن نہیں
ہو رہا نیودن جرور کروں گا کہ جھوشپوری باسا ایسی پری باسا دنیا میں
کوئی نہیں ہے اسے بچانے کے لیے سوکھش اور سندرتہ کا دھیان دینا پڑے گا
ہمیں آج
شاید میں تھوڑا سا کہانی سے ہٹ کر کے بھی شانتر ہوا
لیکن میں آپ کو لے چلتا ہوں جو وہیں کٹا ہوا سر دیکھتا ہے راجہ
درثی سے گر پڑا سونا چاندی عیرہ موتی
پورا راجہ ہی جس کا ہے جو راجہ ہی ہے
ایک چھوٹا سا غریب آدمی نے
اُس کی عوقات کو ناپ کر کے اُس کو عوقات میں لا دیا
تو کبھی کہتے ہیں
بھٹنیا امری ہلاوے لگا راجہ کر کے اُٹھا
کولنر اللہ کے دھونا دے
تیک دانی باہ کٹ کے دے دی اللہ سب بن
توں آتا ہارے گوزمان لیکا بغل میں بیٹھل بھائی
دونوں کو گردن کٹ کے ہم کہ دے دا راجہ
ہم مان جائے کہ تمہوں بڑا کولن نہ بھگبو
ای پاگل ہوں ہم پاگل ہوں
ارے یہ کٹ کے دے دیا دے دیا
اسے اسے تمام اور لوگوں کا کٹوا لے
لیکن میں راجہ ہوں میں ایک دردن کٹ دوں
گا تو بھلا یہ راج کاج کون دیکھے گا
بھٹنیا کل ہے تو ہر بات سمجھ گئے لی لیکن ایک بات جانئے کیا
کیا
کیا ارے دولت کے ارے دولت کے
اگہ مند میں بھولائی گئی لیتا
وہی دربار سے موری لے کر کے نکلی
اور دھڑ اٹھوا کر کے کالی مندیر میں سوم دیو راجہ کے دربار
سے کالی مندیر میں لے کر کے پہنچی بند کر لیتی ہے دروازہ
دروازہ بند کر کے ماتا کے سامنے آوان کرتی ہے
کہ ماں میں نے شالیس سال تک جو تیری پوجا کیا ہے
نشوانت روپ سے ایک سوار تھان پڑا ہے ماں اس
گریب آدمی کے گردن میں نے کہہ کر کے مان لیا
لیکن میری عجزت تمہیں بچانی ہو اس کی جندگی چاہیے واپس کر دے دیوی
گھنٹوں بیٹھی رہی اور ہٹ یوگ پر کھڑی ہو گئی کہ لاس اس مندیر سے نکلے گی
دیوی
تو اس دانی کے ساتھ ساتھ ہماری بھی
لاس نکلی کل سے تمہارے مندیر میں کوئی
دیا جلانے والا نہیں ہوگا کتنے سکتی ہے کبھی کہتے ہیں
اچھا تلہی کے موری پہنچل
مائی کالی کے ساراں دیا ارے مان جگہ دیو کتب مائی سے جیونیا
مان جگہ دیو کتب مائی سے جیونیا
ارے پھر سے جگہ دیو جیون پائی گئی لے
تو راجہ دانی کا سگرہ سکھائی گئی لے
مہ کہتے ہوئے جگہ دیو اٹھ کر کے بیٹھ گئے یہ ہندوستان کی دھرتی ہے
گروہ بہاری گروہ ملیس جی دھوپ گئے ہیں گم
سے رام لال گروہ بچن چندری کا یہاں شوب ہے
کا گا نہ ہوئی ہم سارا سیاہ رام دیو رام دیو بی جائے لال
دنیا میں بیرے رہے کوئی
بہت بہت دھنیبات آپ لو سنیے اسشروعات دیگئے