دیکھ کہاں ہے دنیا
میری جوان ہے
آباد میرے دل میں امید کا
جہاں ہے
دنیا میری جوان ہے
آواز دے کہاں ہے
آہ رات جا رہی ہے یوں جیسے چاندنی کی
بارات جا رہی ہے
آہ رات جا رہی ہے یوں جیسے چاندنی کی
بارات جا رہی ہے
چلنے کو اب فلک سے تاروں کا
کارواں ہے
چلنے کو اب فلک سے تاروں کا کارواں ہے
خسمت پہ چھا
رہی ہے کیوں رات کی سیاہی
ویران ہے میری نیندیں تاروں سے لے گواہی
ویران ہے میری نیندیں تاروں سے لے گواہی
برباد میں یہاں ہوں آباد تو
کہاں ہے
درد
آسمان ہے دنیا میری
جوان ہے
آواز دے کہاں ہے
آواز دے کہاں ہے