اگر میں کہوں کی ہے تم سے محبت
تو تم بھی کرو کی کیا
ہے علجن بڑی جب سے کی ہے محبت
تمہیں بھی ہے ہوتی کیا
آنکھوں میں تیری آنکھوں میں
کھونے لگے ہیں ہم
کہہ ڈالا میں نے ہے سب سے
کہ تجھ کو ہی مانا سنم
ہاں
پھر میں تھا نا سمجھ
تجھ کو سمجھنا سکا
ہاں
ہو رہے کا تھا تجھے کوڑے
ٹوٹا ہے دل کئی دفعہ
چاہا نہ میں نے کچھ تجھ سے
مانگا ہے دو پل سماں
جب سے تُو آئی جیون میں
خوشیوں کا چلتا
یں سے جا
ہاں
آہ
ہاں
آہ
آہ