Nhạc sĩ: Sanju Mewati | Lời: Sanju Mewati
Lời đăng bởi: 86_15635588878_1671185229650
نہ انسان کی فطرت نے، نہ خدا کی خدای نے،
نہ انسان کی فطرت نے، نہ خدا کی خدای نے،
میں بس سائر بنا
ہوں، وہ انسان کی جدائی نے۔
میرا دل کی دھڑکن تو ہی ہے تو نص ہے میرا سینہ کی
میری سادے ہوری لی جوڑا لی تو عادت مو بین جینا کی
جاکو دری ہو جات دکھا کی نی تینے مولو مورت والی
بیوفان کے لیے سالی
بنی نگر والی
کیسے دھوکا اُن لوگ سنجو جنہیں پیدا کری اور پالی
بیوفا نکلی سالی
بنی نگر والی
تو اڑڑ چالی کس منے رہ گو پیار آدھو رو
تو اڑڑ چالی کس منے رہ گو پیار آدھو رو
دھیرے دھیرے پاگل سو تیری آدھ میں ہو رو
مطیدی ایوے دو اسک مجور ہوں میں حالاتن سو مجبور ہوں میں
میں نے سمجھی ہی تو وفادار پر نکلی دل کی کالی
بیوفان کے لیے سالی
بنی نگر والی
جانی میروں اعتبار تو کری میں
نہ ہوں دھوکا والی
بیوفا نکلی سالی بنی نگر والی
جینا
مہے ساتھ تیرے کے جانگا مر میں
جینا
مہے ساتھ تیرے کے جانگا مر میں
تو علکھ سالی سادھی کی ماتن سو میرا گھر میں
مطیدو علیہ سنجیو تو رو تو سنکاری لگمن سو سمجھو تو
بیٹی کو فرج نبھانو تو سو یاری خوب نبھالی
بیوفا نکلی سالی
بنی نگر والی
کوئی اور پیار کی بھو بے پھسل کوئی اور کھرے رکھی والی
بیوفا نکلی سالی
بنی نگر والی
مانے
ہاتھ دھارا سر پے روہ رو باپ کو اٹھا میں
ہاتھ دھارا سر پے
روہ رو باپ کو اٹھا میں
واقع مقدر میں لکھ گی کری قبول جانے
میرا دل سور سی تو تو اڑ دے
واسطے خدا کے محچو اڑ دے
تو تھوک کا آنسو بہانی ہے تیروں پیار ہرنگی جانی
بیوفا نکلی سالی
بنی نگر والی
میری جانی میروں اعتبار تو کری میں نہ ہوں دھوکہ والی
بیوفا نکلی سالی بنی نگر والی